استسقا کی نماز

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ دو رکعت نماز جو خشک سالی میں طلب باراں کی غرض سے اکثر بستی سے باہر جا کر مقرر طریقے سے پڑھی جاتی ہے۔ "شہر کے لوگ استسقا کی نماز کو بیرون شہر جا رہے تھے۔"      ( ١٩٢٥ء، لطائف عجیبہ، ٦:٣ )

اشتقاق

عربی زبان کے لفظ'اِسْتِسْقا' کے ساتھ 'کی' حرف اضافت اور نماز بطور مضاف استعمال ہوا ہے۔ اردو میں ١٨٩٧ء کو "تاریخ ہندوستان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ دو رکعت نماز جو خشک سالی میں طلب باراں کی غرض سے اکثر بستی سے باہر جا کر مقرر طریقے سے پڑھی جاتی ہے۔ "شہر کے لوگ استسقا کی نماز کو بیرون شہر جا رہے تھے۔"      ( ١٩٢٥ء، لطائف عجیبہ، ٦:٣ )

جنس: مؤنث